امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ملاقات طے پا گئی ہے، جسے عالمی سطح پر تجارتی تناؤ میں کمی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق چین نے تصدیق کی ہے کہ صدر شی جن پنگ جمعرات، 30 اکتوبر 2025 کو جنوبی کوریا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنما اس ملاقات میں اسٹریٹجک اور طویل مدتی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ چین اور امریکہ ملاقات کے مثبت نتائج کو فروغ دینے اور تعلقات کی مستحکم ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے خواہشمند ہیں۔
صدر ٹرمپ جنوبی کوریا پہنچ چکے ہیں اور دورانِ سفر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور شی جن پنگ دونوں ممالک کے لیے بہترین معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس ملاقات کی توقعات نے گزشتہ ماہ مارکیٹوں کو مستحکم کرنے میں مدد دی، کیونکہ نئے تجارتی تناؤ کے خدشات تھے کہ عالمی سپلائی چینز پر اثر ڈالنے والی ٹیرف جنگ کے حل کے لیے مذاکرات رکے سکتے ہیں۔
واشنگٹن نے چین کی نئی نایاب زمینی برآمدات کے کنٹرولز کو تجارتی جنگ کی شدت میں اضافے کا سبب قرار دیا، جبکہ چین کا موقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی پابندیوں اور چینی کمپنیوں کی امریکہ میں سرمایہ کاری کی محدود صلاحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
شی جن پنگ جمعرات سے ہفتے تک جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) میٹنگ میں شرکت اور سرکاری دورے پر ہوں گے، تاہم صدر ٹرمپ اس سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات طے، تجارتی تناؤ کم کرنے کی امید








