اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی مغویوں کی لاشیں واپس کرنے کا عمل مؤخر کر دیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے مسلسل حملے یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش اور حوالگی کے عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس نے گزشتہ روز ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد یہ عمل مؤخر کر دیا گیا۔
حماس نے اپنے بیان میں اسرائیلی جارحیت کو شرم الشیخ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور رفح کراسنگ کی مسلسل بندش کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ اسرائیل معاہدے کو سبوتاژ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔
تنظیم نے جنگ بندی کے ضامن ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالیں تاکہ حملے بند ہوں اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی سرپرستی میں اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صابرہ، رفح، خان یونس اور دیار البلاح کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 91 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ دیار البلاح میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
تباہ شدہ سرنگ سے اسرائیلی یرغمالی کی باقیات نکالنے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے فوجی حملے کا جواب دیا، اور جنگ بندی کو کسی چیز سے خطرہ نہیں، حماس خود پر قابو رکھے۔
دریں اثنا نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج پر فائرنگ کا الزام لگا کر غزہ کے مزید علاقوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
حماس نے مغویوں کی لاشیں واپس کرنے کا عمل مؤخر کر دیا








