27ویں آئینی ترمیم کے تحت کچھ اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جن میں نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز متعارف کرایا گیا ہے، جو کہ آرمی چیف کے تحت ہوگا۔ اس ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والے افسران تاحیات یونیفارم میں رہیں گے اور ان کے مراعات بھی تاحیات برقرار رہیں گی۔
اس ترمیم کے دیگر اہم نکات یہ ہیں:
چیف آف ڈیفنس فورسز کا تقرر: آرمی چیف، نیول چیف اور ایئر چیف کا تقرر صدر اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر کیا جائے گا، اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔
2. فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ رینک کی مراعات: فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کو تاحیات عدالتی استثنیٰ حاصل ہوگا، اور حکومت ان کو ریاست کے مفاد میں کوئی نئی ذمہ داری دے سکتی ہے۔
3. وفاقی آئینی عدالت کا قیام: ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں ہر صوبے سے مساوی ججز ہوں گے۔ چیف جسٹس اور ججز کا تقرر صدر کرے گا، اور آئینی عدالت اپنے فیصلوں پر نظرثانی کا اختیار رکھے گی۔
4. ہائی کورٹ ججز کے تبادلے: ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا، اور اگر کوئی جج ٹرانسفر قبول نہیں کرے گا، تو اسے ریٹائر سمجھا جائے گا۔
5. صدر اور گورنر کی حفاظت: صدر اور گورنر کے خلاف عمر بھر کے لیے کوئی فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکے گی، اور ان کی گرفتاری یا جیل بھیجنے کی کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔
6. سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے فیصلے: وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کی تمام عدالتوں کو پابندی ہوگی، سوائے سپریم کورٹ کے فیصلے کے۔
27ویں مجوزہ آئینی ترمیم: اہم نکات اور تبدیلیاں








