بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

27ویں آئینی ترمیم: وفاقی آئینی عدالت اور ججز کے تبادلے کی نئی تجویز

27ویں آئینی ترمیم کے تحت اہم تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے، جن میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور ججز کے تبادلے کے حوالے سے نئے اختیارات شامل ہیں۔
اہم نکات:
1. وفاقی آئینی عدالت کا قیام:
مجوزہ ترمیم کے مطابق ملک میں وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس میں ہر صوبے سے مساوی ججز شامل ہوں گے۔ چیف جسٹس اور دیگر ججز کا تقرر صدر کرے گا۔ اس عدالت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کا اختیار حاصل ہوگا اور یہ قانون سے متعلق معاملات کو فیصلے کے لیے مختص کرے گی۔
2. ججز کے تبادلے کا اختیار:
ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا۔ اگر کوئی جج تبادلے کو قبول نہیں کرتا تو اسے ریٹائر سمجھا جائے گا۔ اس تبدیلی سے ججز کی تقرری اور تبادلے کے طریقہ کار میں شفافیت اور سسٹم کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
3. صدر اور گورنر کے خلاف فوجداری کارروائی:
ترمیم کے مطابق صدر اور گورنر کے خلاف عمر بھر کے لیے کوئی فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکے گی، اور نہ ہی ان کی گرفتاری یا جیل بھیجنے کی کوئی قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔
4. سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے اختیارات:
سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے پاس ہائی کورٹ سے کسی کیس کو اپنے پاس یا کسی دوسری ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کا اختیار ہوگا۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں پر تمام پاکستانی عدالتوں کو عمل کرنا ضروری ہوگا، سوائے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے۔
5. آئینی عدالت کے ججز کی مدت:
وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی عمر 68 سال تک ہوگی، اور آئینی عدالت کا چیف جسٹس تین سال کی مدت مکمل کرنے پر ریٹائر ہو جائے گا۔ صدر آئینی عدالت کے ججز میں سے کسی کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرسکے گا۔
6. آئینی عدالت کے ججز کا تقرر:
صدر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا تقرر کرے گا، اور سپریم کورٹ کے ججز میں سے پہلا چیف جسٹس بھی صدر کی ایڈوائس پر مقرر کیا جائے گا۔