پاکستان کے آئین میں مجوزہ 27 ویں ترمیم کے مسودے میں ایک اہم تبدیلی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق صدر مملکت کے خلاف تاحیات کوئی کیس نہیں بنایا جا سکے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا جا سکے گا۔ یہ ترمیم پیپلز پارٹی کے مطالبے پر آئین کے آرٹیکل 248 میں کی جا رہی ہے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسلسل تجاویز کا تبادلہ جاری ہے، جن میں کچھ نکات کو شامل کیا جا رہا ہے اور کچھ نکات کو نکالا جا رہا ہے۔ صدر مملکت کے خلاف کیسز نہ بنانے اور ان کی گرفتاری کو روکے جانے کی ترمیم بھی ان نئے مسودوں میں شامل کی گئی ہے۔
آرٹیکل 248 بی کے تحت، صدر مملکت کے خلاف کسی بھی نوعیت کا قانونی مقدمہ درج نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار یا سزا دی جا سکے گی۔ یہ ترمیم پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کی گئی تھی، جسے قبول کر لیا گیا اور آئینی مسودے میں شامل کر لیا گیا۔









