بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان سے پوچھاجائے کس کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے؟سعدرفیق

 

لاہور(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے استفسار کیا ہے کہ جو آج مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں وہ بتائیں، آئی ایم ایف سے معاہدہ کس نے کیا تھا؟ ہم چاہتے تو بھاگ سکتے تھے مگر ریاست بچانے کیلئے بوجھ اٹھایا ہے، عمران خان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے؟
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ن لیگی رہنما نے کہا کہ ایک آدمی جمہوریت کا چیمپئن بنتا ہے، وہ ڈنکے کی چوٹ پر آئین توڑنے کی بات کرتا ہے، کبھی عدلیہ کو آواز دیتا ہے تو کبھی فوج کو پکارتا ہے اور ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہوں تو انہیں گالیاں دیتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگرغداری ہو رہی تھی تو اس وقت آپ ملک کے وزیر اعظم تھے، جوڈیشل کمیشن بنا لیتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امپورٹڈ حکومت کہتے ہیں، کیا امریکی سفیر کو صدارتی محل میں گارڈ آف آنر دینے کو ہم نے کہا تھا؟ عمران خان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔
انہوںنے کہاکہ ہم چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر غداری ہو رہی تھی تو یہ وزیر اعظم تھا انکوائری کیوں نہیں کروائی؟ عثمان بزاد کی کرپشن کے قصے زبان زد عام ہو گئے ہیں، ہم کہتے ہیں نیب کو ختم ہونا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ قوم آج جو کچھ بھگت رہی ہے وہ عمران خان کی نالائقیوں کی وجہ سے ہے، سابق حکومت نے ریلوے کا خسارہ بڑھا دیا، پی ٹی آئی کے سیاسی مسخروں نے اداروں کو تباہ کر دیا، یہ مارشل ڈکٹیٹر شپ سے بھی بد تر ہے۔ انہوں ںے کہا کہ 22 کروڑ کا ملک ایک غیر متوازن کی خواہشات کا غلام نہیں ہوسکتا۔
سعد رفیق نے کہا کہ آج جنہیں یہ گالیاں دیتا ہے وہ اس کے محسن ہیں، جب لوگ مشورہ دیتے تھے کہ ملک چلاؤ اپوزیشن کو دیوار سے مت لگاؤ تو سنی نہیں، پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کسی کو ایک آنہ نہیں دیا، نہ لیا ہے، یہ تو ہمارا مطالبہ تھا کہ ملک میں انتخابات ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے میں 45 ارب کا سالانہ خسارہ چھوڑ کر گیا، جو آدمی دوسروں کو چور کہتا ہے وہ خود چور ہوتا ہے، اس شخص نے ہمیشہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا، 90 دن کیلئے تو نگران کے ساتھ کسی نے بات نہیں کرنی تھی، پھر پاکستان کا کیا بنتا؟ سیاست بچ جانی تھی لیکن ریاست نہ بچتی، سی پیک ہم لائے تھے کیوں تم نے رول بیک کیا؟ تمارے حامی تو ہر جگہ موجود ہیں ، بنا لیتے نا جوڈیشل کمیشن۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق نے اس موقع پر کہا کہ یہ کشمیر پر ٹرمپ سے وعدہ کر کے آئے تھے، انہوں نے چین اور سعودی عرب سے تعلقات خراب کیے، اب ان ممالک سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، یہ پاکستان سے مخلص ہوتے تو گیس جیسے ایگریمنٹ کیے ہوتے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ جس پر احسان کرتے ہیں اسی کو ڈبوتے ہیں، کرسی کا اتنا شوق کہ اس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتے، وہ جتنا عدم اعتماد کولٹکا سکتے تھے لٹکایا ہے، عمران خان نے توشہ خانہ کا مکمل صفایا کر دیا ہے۔