بھارت میں انسٹاگرام کے ایک تخلیق کار نے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی ہے جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی—موضوع ہے ایک عام سا موموز اسٹال جس کی ماہانہ کمائی مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے تک پہنچتی ہے۔
کیسی پریرا نامی کانٹینٹ کریئیٹر بینگلورو کے اس مشہور اسٹال پر گئے، وہاں کچھ وقت کام کیا اور پورا تجربہ ریکارڈ کرکے شیئر کر دیا۔ ویڈیو میں وہ گاہکوں کو خود موموز سرو کرتے دکھائی دیے۔
ان کے مطابق اسٹال کے پہلے ہی گھنٹے میں وہ 118 پلیٹیں فروخت کر چکے تھے۔ کچھ دیر کے مختصر وقفے کے بعد جب وہ واپس آئے تو ان کے انتظار میں مزید گاہک لائن بنا کر کھڑے تھے۔
یہ موموز اسٹال شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک کھلتا ہے، اور ایک پلیٹ کی قیمت 110 بھارتی روپے ہے۔ کیسی پریرا کے مطابق اس دن اسٹال نے تقریباً 950 پلیٹیں بیچیں، یعنی مجموعی فروخت 1 لاکھ 4 ہزار 500 بھارتی روپے رہی—جو پاکستانی روپے میں ساڑھے 3 لاکھ سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔
انہوں نے اندازہ لگایا کہ اگر روزانہ کی فروخت یہی رہے تو اسٹال کی ماہانہ آمدنی تقریباً 31 لاکھ 35 ہزار بھارتی روپے (یعنی تقریباً 1 کروڑ پاکستانی روپے) تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے کمنٹس میں اس اندازے کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اخراجات نکالنے کے بعد اصل منافع اتنا زیادہ نہیں ہو سکتا۔
پھر بھی، یہ ویڈیو اس بات کی مثال ضرور بن گئی ہے کہ بھارت جیسے بڑے شہروں میں ایک چھوٹا سا فوڈ اسٹال بھی غیر معمولی کمائی کرسکتا ہے—اگر ذائقہ اچھا ہو اور گاہکوں کی لائنیں لگی رہیں۔









