امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ میں انسانی بحران کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی سفارتی طاقت استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ موسمِ سرما کی سختیوں کے دوران غزہ میں انسانی امداد کی مکمل رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
سینڈرز نے بیان میں کہا کہ ایک ملین سے زائد فلسطینی سرد موسم میں بغیر پناہ گاہ کے رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ 92 فیصد گھر اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خیموں اور دیگر امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
غزہ حکام کے مطابق تقریباً 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور سردی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادویات، خوراک اور بنیادی خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ تباہ شدہ علاقوں میں کم از کم 3 لاکھ خیموں اور پری فیبریکیٹڈ یونٹس کی فوری ضرورت ہے تاکہ بے گھر افراد کو پناہ دی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
سینیٹر سینڈرز نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں انسانی تباہی ناقابل تصور سطح تک پہنچ سکتی ہے اور واشنگٹن کو اسرائیل سے فوری طور پر غزہ کے لیے مکمل انسانی امداد کے راستے کھولنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ میں انسانی امداد کی فوری رسائی کا مطالبہ کر دیا








