پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر 5300 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پیسہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے اسے بیرونِ ملک فلیٹس اور جزیرے خریدنے پر خرچ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے این ایف سی اجلاس میں وہ ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کی ادائیگی کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق فاٹا کے انضمام کے بعد خیبرپختونخوا کا این ایف سی میں حصہ 19 فیصد بنتا ہے، مگر گزشتہ سات برس سے صوبے کو سالانہ 350 ارب روپے کا واجب الادا حصہ نہیں مل رہا۔
اسی دوران وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پشاور کے پارلیمنٹیرینز کا اجلاس بھی ہوا، جہاں انہوں نے شہر کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے کے مجوزہ منصوبوں پر ایک بڑی مشاورتی میٹنگ بلانے کا اعلان کیا۔









