اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے آج ہونے والے اجلاس میں 4 غیر منتخب سیاستدانوں اور 13 اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو بھی شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق (پی این ایس سی) کے اجلاس میں فوجی قیادت کی جانب سے قومی سلامتی کے امور بشمول کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ہوئی بات چیت پر بریفنگ دی جائے گی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے اس ضمن میں جاری ایک نوٹس اور ایجنڈے کے مطابق اجلاس کی صدارت اسپیکر راجا پرویز اشرف بطور کمیٹی چیئرمین کریں گے جس میں شرکت کے لیے 125 افراد کو دعوت دی گئی ہے۔
اس میں 62 افراد کو ’خصوصی طور پر مدعو‘ کیا گیا ہے جس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی شامل ہیں حالانکہ نہ وہ پارلیمان کے رکن ہیں اور اس وجہ سے کسی حلف کے پابند نہیں۔
کمیٹی اجلاس میں شرکت کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، دونوں ایوانوں کی سینئر پارلیمانی قیادت، وفاقی وزرا، سینئر سیاسی قیادت، صوبائی وزرا اعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے صدر و وزیراعظم اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) July 3, 2022
اس کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 108 اراکین کو بھی بریفنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
چار سابق وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے صدر و وزیراعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور سابق سفیر محمد صادق بھی خصوصی طور پر مدعو کیے گئے افراد میں شامل ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ اس بریفنگ میں 3 باپ بیٹے بھی شرکت کریں گے۔
ان میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹے اسد محمود جو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور سابق صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شامل ہیں۔
بجٹ پر بحث کے دوران اراکین قومی اسمبلی نے 20 جون کو ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں اسپیکر کو اسمبلی کا ہال پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
قبل ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر وزیراعظم کے دفتر میں پارلیمینیٹرینز کے ایک خصوصی اجلاس میں بریفنگ دی تھی۔









