ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے استعمال کے سبب آئندہ دہائی میں تقریباً 30 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔
نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن ریسرچ (NFER) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو وہ مہارتیں سکھائی جائیں جو انہیں مستقبل کے ملازمت کے ماحول میں برقرار رکھ سکیں۔
رپورٹ میں ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بے روزگاری کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، جن میں ایڈمنسٹریٹیو، سیکریٹریل، کسٹمر سروس اور مشین آپریٹرز شامل ہیں۔
این ایف ای آر نے مزید خبردار کیا کہ خطرہ صرف موجودہ ملازمین تک محدود نہیں بلکہ وہ نوجوان بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں جو کسی ہنر کے بغیر تعلیم مکمل کیے بغیر کام کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔
رپورٹ: مصنوعی ذہانت اگلے چند سالوں میں لاکھوں افراد کو بے روزگار کر سکتی ہے








