اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جج کے بیٹے ابوذر کی گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ فریقین کے درمیان صلح ہو گئی ہے اور متاثرہ خاندانوں نے عدالت میں ملزم کو معاف کرنے کا بیان ریکارڈ کروایا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ فیملیز کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ ایک لڑکی کے بھائی نے عدالت میں بیان دیا جبکہ اس کی والدہ کا بیان آن لائن ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری لڑکی کے والد بھی عدالت میں پیش ہوئے اور صلح سے متعلق اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کیا۔
متاثرہ خاندانوں کے بیانات کے بعد عدالت نے ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کر دی اور اسے رہائی کی اجازت دے دی۔ مقدمے میں صلح کے بعد قانونی کارروائی اگلے مراحل کی جانب بڑھ رہی ہے۔









