شارجہ ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے جعلی برطانوی ویزوں پر سفر کرنے کی کوشش کرنے والے پانچ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرکے فوری طور پر ڈیپورٹ کر دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ افراد انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کی مدد سے تیار کیے گئے جعلی سفری دستاویزات استعمال کر رہے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہی مسافر اس سال لاہور سے ملائیشیا وزٹ ویزوں پر بھی سفر کر چکے تھے، تاہم اس بار شارجہ میں ان کے ویزوں کی باریک جانچ پڑتال کے دوران جعل سازی سامنے آگئی جس کے بعد انہیں تحویل میں لے کر مختصر تفتیش کے بعد پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ لاہور ایئرپورٹ پہنچنے پر ایف آئی اے نے تمام افراد کو اپنی تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی، جبکہ اینٹی ہیومن اسمگلنگ سرکل معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے غیر قانونی ہجرت اور جعلی سفری دستاویزات کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نئی ایپ کے پائلٹ پراجیکٹ کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق یہ ایپ حکام کو مسافروں کی اسکریننگ میں مدد دے گی، تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کون سا مسافر حقیقی دستاویزات کے ساتھ سفر کر رہا ہے اور کون نہیں، جبکہ جعلی ویزوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف مکمل زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ محسن نقوی نے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے ساتھ امیگریشن اصلاحات کا بھی جائزہ لیا، تاکہ شہریوں کے لیے بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور پاکستان کی عالمی ساکھ میں بہتری لائی جا سکے۔









