متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے کبھی اپنے رہنما کو پاکستان سے بڑا نہیں سمجھا، اور اسی اصول کے تحت غیر ذمہ دارانہ رویے سے لاتعلقی اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنے قائد کو ملک سے بڑا سمجھتی ہے تو انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی قسم کے سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ حالات کہیں پاکستان کی سیاست میں بیرونی مداخلت کے امکانات کو تقویت نہ دے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا حالات کسی بڑی سازش کے لیے سازگار تو نہیں بن رہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی حرمت اور بقا سب سے مقدم ہے، اور اس معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو یکجا ہونا چاہیے۔ خالد مقبول نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے خلاف چلنے والی ہر منظم مہم کو سنجیدگی اور ذمہ داری سے نمٹا جائے۔
ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ “ہم نے اس سال ہندوستان کا مقابلہ کر کے اسے شکست دی، اور اب اس کی پراکسی کو بھی شکست دیں گے۔ ہمارے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے والوں نے وقت کے ساتھ خود اپنی باتوں کی تردید کردی ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ہم سب کا ہے، اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور مستقبل میں بھی دینے کے لیے تیار ہیں۔









