امیر جماعتِ اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیرِآباد میں بلاسود قرضہ فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرکاری نظام کو بہترین ہونا چاہیے، لیکن موجودہ صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے اور ہر شعبہ طبقاتی تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے تقریباً 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر اسکیمیں موجود ہیں، لیکن یہ غربت ختم کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت صرف دکھاوے کی اقدامات کر رہی ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے نوجوانوں کے مسائل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان مایوس ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باصلاحیت نوجوانوں کو آئی ٹی کے کورسز فراہم کیے جائیں تو وہ بہت سے شعبوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ تھانہ و کچہری کے موجودہ نظام، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنا ضروری ہے، اور اس کے لیے مؤثر اور مضبوط آواز بلند کی جانی چاہیے۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور جماعتِ اسلامی آئندہ وقت میں خود کو مزید متحرک اور سرگرم کرے گی۔
بلاسود قرضہ فراہمی کی تقریب، حافظ نعیم الرحمٰن کا خطاب








