پاکستان کے مختلف حصوں کی طرح پنجاب میں بھی انفلوئنزا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر لاہور میں وائرل انفیکشن نے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ شہری بڑے پیمانے پر انفلوئنزا اور دیگر وائرل بیماریوں میں مبتلا ہو کر سرکاری و نجی اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کر رہے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 12 دنوں کے دوران پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں 50 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ نجی کلینکس میں بھی مریضوں کا رش معمول سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ متاثرہ افراد میں خشک کھانسی، شدید نزلہ، سردرد اور جسم درد جیسی علامات عام ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں آنے والے زیادہ تر مریض انفلوئنزا اے (H3N2) کی علامات کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دسمبر سے فروری کے دوران انفلوئنزا کے کیسز میں مزید اضافہ متوقع ہے، اور موسم سرما کی اسموگ کی وجہ سے علامات طویل عرصے تک برقرار رہنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
محکمہ صحت پنجاب نے بتایا کہ اس وقت انفلوئنزا کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے، تاہم کلینکل تشخیص کی بنیاد پر کیسز کی تعداد زیادہ ظاہر کی جا رہی ہے۔
پنجاب میں انفلوئنزا کے کیسز میں خطرناک اضافہ، اسپتالوں میں رش بڑھ گیا








