اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہے کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان قوم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں کس طریقے سے اقتدار میں لایاگیاتھا تو بسم اللہ کریں ،امریکی سازش کا بیانیہ تو پٹ چکاہے،سب کو پتہ چل گیاہےکہ کہانی گھڑی گئی تھی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہاکہ عمران خان کایہ موقف کو وہ قوم سب کچھ بتادیں کہ اس حوالے سے دو باتیں ہیں ایک یہ کہ انہیں اقتدار میں لایا گیا اور اقتدار میں لانے کےلئے 2014سے لے کر 2018کے الیکشن تک کس طرح لوگوں بنی گالہ لا یاجاتا رہا اور کس طرح سے لوگوں کو گردن سے پکڑ پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا، اگر عمران خان یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مجھے اس طریقے سے اقتدار میں لایاگیا تھا تو پھر بسم اللہ کریں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ عمران خان نے یہ موقف اختیار کیا کہ مجھے اقتدار سے نکالنےکے لئے امریکہ نے سازش کی ، اب اگر امریکہ نے انہیں اقتدار سے نکالا ہے تو قوم کو بتائیں لیکن اگروہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے اندر سے کسی نے سازش کی توپھر امریکا کو چھوڑیں اور یہ بتائیں کہ ملک کے اندر سے کس نے سازش کی؟ ۔راناثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے جو ویڈیو ریکارڈ کرا کے کہیں چھپا دی ہے وہ امریکا کے خلاف ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی آڈیو ٹیپ غیر قانونی سے زیادہ غیر اخلاقی ہے اور غیر اخلاقی سے زیادہ غیر سیاسی ہے ،یعنی ایک خاتون اول اپنے میڈیا سیل کے انچارج کو کہہ رہی ہے کہ فرح گوگی پر بہت گند آئے گا تو آپ نے اسے خط سے جوڑ کر غداری کے اوپر لے کر جانا ہے ،جو پلاننگ وہ کر رہی ہیں اسی پلاننگ پر عمران خان عمل کر رہے ہیں اور اسی پلاننگ پر ان کا میڈیا سیل کام کررہا ہے ۔کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ پارلیمنٹ اور قوم کرے مزید 20 سال لڑنا ہے یا مذاکرات سے مسئلہ حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جتنے بھی مسائل ہوئے ہیں وہ مذاکرات سے حل ہی ہوئے ہیں، قومی سلامتی کمیٹی میں کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے معاملات پر باتیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھا ہوں کہ ڈائیلاگ سے پہلے پری ڈائیلاگ ہوتے ہیں کہ بات کیا ہونی چاہیے، بات کس سے ہونی چاہیے، شرائط کیا ہونی چاہئیں، بات اتنی آگے نہیں بڑھی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں بتایا گیا مسلم خان اور محمود خان ہماری حراست میں ہیں، عسکری قیادت نے واضح کہا اگر آپ کہتے ہیں تو ہم مذاکرات کرتے ہیں، عسکری قیادت نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں مذاکرات نہیں کرنے تو ہم نہیں کرتے، عسکری قیادت نےکہا ہم لڑنے کو تیار ہیں، صلاحیت رکھتے ہیں کہ انہیں سارٹ آؤٹ کرسکیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسنگ پرسنز سے متعلق بات ہوئی، مسنگ پرسنز کیس میں وزیراعظم پیش ہو کر کیا کریں گے؟ مسنگ پرسنز کے معاملے میں حکومت، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، مسنگ پرسنز کے لواحقین فریقین ہیں، چاروں فریق بیٹھ کر سچی بات کریں مسئلے کا حل ایک میٹنگ میں نکل سکتا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنا ہے تو چاروں فریقوں کو بٹھایا جائے، عسکری قیادت نے دو ٹوک بات کی کہ مسئلہ حل کرنا ہے تو تمام پہلو دیکھیں۔رانا ثناء نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں بٹھائیں ایک میٹنگ میں مسئلہ حل ہوجائے گا، آرمی چیف بھی چاہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو۔
عمران خان یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں کیسے اقتدار میں لایاگیاتھا تو بسم اللہ کریں ،راناثنااللہ








