وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کا دارومدار برآمدات میں اضافے پر ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ملکی برآمدات سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2025-26 کے دوران اب تک کی برآمدات اور درآمدات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے کاروباری طبقے اور برآمدکنندگان کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ سے نہ صرف برآمدات میں وسعت آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے وفاقی وزراء برائے تجارت، صنعت و پیداوار اور قومی غذائی تحفظ کو ہدایت کی کہ وہ مختلف صنعتی اور تجارتی شہروں کا دورہ کر کے برآمدکنندگان سے براہِ راست ملاقات کریں۔ انہوں نے کولڈ چین اور صنعت و تجارت سے منسلک دیگر شعبوں کے فروغ کے لیے صوبوں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
دریں اثنا وزیراعظم کی زیر صدارت انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور غیر قانونی بیرونِ ملک سفر کے خلاف اقدامات سے متعلق جائزہ اجلاس بھی منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں پر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کی آف لوڈنگ سے متعلق حالیہ اطلاعات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کا خود ایئرپورٹس پر جا کر صورتحال کا جائزہ لینا قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کارروائی کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ معتبر سفری دستاویزات رکھنے والے مسافر متاثر نہ ہوں۔
شہباز شریف نے پروٹیکٹریٹ آف ایمیگرنٹس کی کارکردگی بہتر بنانے اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے ساتھ ہم آہنگی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی، تاکہ قانونی طور پر بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے امیگریشن نظام کی بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی پر بھی زور دیا۔
معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیراعظم







