وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور غیر قانونی بیرونِ ملک سفر کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ برطانیہ اور خلیجی ممالک میں غیر قانونی دستاویزات کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔
اجلاس میں وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ زیادہ تر مسافر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور ملائیشیا سے ڈی پورٹ کیے گئے۔ ایف آئی اے نے اس سال انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بیرونِ ملک سفر کے کاروبار میں ملوث 451 افراد کو گرفتار کیا۔
وزیرِاعظم نے اجلاس میں متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کی شکایات پر وزیرِ داخلہ نے خود ایئرپورٹس کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امیگریشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ یورپ کے لیے غیر قانونی سفر کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 47 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور ایف آئی اے میں کرپشن کے ثبوت ملنے پر 196 افسروں اور اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کیا گیا۔
مسافروں کے ڈیٹا کے مؤثر انتظام کے لیے موبائل فون ایپلیکیشن تیار کی جا رہی ہے، ایف آئی اے کے آئی بی ایم ایس اور آئی ٹی سیکشنز کی ری اسٹرکچرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ غیر قانونی سفر روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید نظام کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
غیر قانونی دستاویزات پر بیرونِ ملک سفر کرنے والوں میں کمی: وزیرِاعظم کو اجلاس میں بریفنگ







