اسلام آباد(ممتاز نیوز )نامی گرامی سابق بیورکریٹ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی تازہ نظم پڑھیئے۔ ایسے لوگ تاریخ کے اوراق میںہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔”یہی وہ دن تھا ،جس دن محتسب نے جال پھینکا تھا، مری آنکھوں کے آگے لاکے،اک تحریر رکھی تھی، مجھے بس اتنا کہنا تھا،کہ جو کچھ بھی لکھا تھا، بس وہی سچ ہے، مرے کچھ چارہ گر سمجھا رہے تھے، اطاعت وقت کے حاکم کی واجب ہے، اگر میں نے نہ ان کی بات مانی تو،مرے ذمے بہت سے ان کئے اور ان سنے،جرموں کا کھاتا کھولنا ہو گا، مجھے یہ سوچنا ہو گا کہ جس تحریر پر میں، دستخط کرنے کی حامی بھر نہیں پایا،میں جس الزام کو، اک تیسرے کے نام آخر دھر نہیں پایا ، وہ میرا جرم ٹھہرے گا، فرشتے عرش سے اتریں گے، فرد جرم کے حق میں گواہی لے کے آئیں گے، تمہارے علم میں ہو گا، ہمارے شہر کا قانون ہر ایسی گواہی کو، بلا چون وچراں منظور کرتا ہے ، وہ اتنے معتبر ہیں کہ ، کوئی ان کی گواہی پر، جرح بھی کر نہیں سکتا،میں چاہے لاکھ جھٹلائوں، دلیلیں دوں، شواہد لے بھی آئوں، بس ان سب کا کہا ہر لفظ ہی، دستور ٹھہرے گا، مرے منصف کو بھائے گا، وہ منظور ٹھہرے گا، میں لمحہ بھر ٹھٹک کر رہ گیا تھا، مری آنکھوں کے آگے ، سبھی پیاروں کے چہرے آ گئے تھے، مگر پھر دور سے آواز اک آتی سنائی دی،یہی وہ کربلا ہے، جس کو تم مدت سے،تحریروں میں لکھتے آ رہے ہو،یہی وہ معرکہ حق و باطل ہے، یہی وہ اک گھڑی ،وہ ایک ساعت ہے ،جہاں انسان کی پہچان ہوتی ہے ،سو اب یہ فیصلے کی اک گھڑی، تم تک بھی آپہنچی، تو اب یہ فیصلہ تم نے ہی کرنا ہے، تمہیں اک عمر بھر آسودگی سے زندہ رہنا ہے یا پھر،امام کربلا کے قافلے کے ساتھ چلنا ہے، سو میں نے ایک لمحے میں ہی، اپنا فیصلہ ان کو سنا ڈالا، مجھے رب مکان و لامکاں نے، سچ کی حرمت کو بچانے کا، فریضہ سونپ رکھا ہے،میں ان کے جرم میں کوئی اعانت کر نہیں سکتا، مجھے تاریخ کے اوراق میں ہی، زندہ رہنا ہے، میں اپنے آپ کو برباد کرکے، مر نہیں سکتا۔”
فواد حسن فوادکی تازہ نظم








