گوادر کے ساحلی پانیوں میں بلوم کی موجودگی کے باوجود ڈولفنز کا ایک گروپ دیکھا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
کراچی سے وابستہ ورلڈ وائیڈ فنڈز فار نیچر (WWF) کے مطابق، یہ ڈولفن ایک ساتھ تیرتے ہوئے خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ WWF پاکستان نے بتایا کہ موجودہ بلوم ایک قدرتی موسمی عمل ہے اور اس کا آلودگی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بلوم عام طور پر سی اسپارکل کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کہ نوک ٹیلو نامی چھوٹے تیرنے والے جاندار کی کثرت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ WWF پاکستان کے مطابق نوک ٹیلو کا یہ بلوم ہر سال نومبر سے فروری کے دوران ظاہر ہوتا ہے اور رواں سال یہ بلوم کراچی سے بلوچستان کے ساحل تک پھیل چکا ہے۔
خصوصاً پاکستان میں نومبر میں شروع ہونے والے اس بلوم کی وجہ سے پسنی سے جیوانی تک سمندر کا پانی سبز رنگ اختیار کر گیا ہے، لیکن اس کے باوجود گوادر میں ڈولفنز کا نظارہ اب بھی قابل دید اور دلکش رہا۔
گوادر کے سمندر میں بلوم کے باوجود ڈولفنز کا دلکش نظارہ، ویڈیو وائرل








