وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو رہی، اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وضاحت پیش کی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے جواب میں گالیوں اور تضحیک آمیز رویے کا سامنا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کئی بار بات چیت کی پیشکش کی، اور وزیراعظم نے تین سے چار مرتبہ واضح طور پر مذاکرات کی دعوت دی، مگر پی ٹی آئی نے ان کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات ہی میں ہے، لیکن جب جواب میں بدزبانی سامنے آتی ہے تو معاملات آگے نہیں بڑھ پاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار ایک عارضی چیز ہے، جبکہ سیاست میں مستقل مزاجی اور برداشت ضروری ہے۔ حکومت اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے سنجیدہ رویہ ظاہر نہیں ہو رہا۔
اس کے علاوہ وزیر دفاع نے ادارہ جاتی احتساب پر بھی بات کی اور بتایا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا احتساب کیا جا چکا ہے، جو اداروں میں خود احتسابی کے عمل کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ فوجی قیادت نے اپنے اداروں سے احتساب کی شروعات کی۔
وزیراعظم کی پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں نہیں ہو رہے؟ خواجہ آصف کی وضاحت








