امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کے پیچھے ’غالباً‘ ایران کا ہاتھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ”حوثیوں نے خود بتایا ہے وہ مزید لڑائی نہیں چاہتے“۔
صدر ٹرمپ نے ڈبلن میں آئرش وزیراعظم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی شاہ سلمان میرے بہترین دوست ہیں اور سعودی عرب میں جلد سب کچھ بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان(Masoud Pezeshkian) نے ان تاثرات اور الزامات کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کی سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے اور یمن کے حوثی باغیوں کے اپنے الگ مسائل اور آزادانہ فیصلے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے، دو افراد زخمی، مسجد سمیت متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
انہوں نے خطے کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر امن اور سلامتی کے قیام کے لیے کام کریں۔
Iranian President Masoud Pezeshkian said Tehran is not at war with Saudi Arabia and that the Houthis have ‘their own issues’.
He called for regional countries to work together to establish peace and security. pic.twitter.com/LcorJCvr80
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 13, 2026
اس سفارتی موقف کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے مسائل کا حل فوجی کشیدگی بڑھانے سے ممکن نہیں ہے اور ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے پر تیار ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام صرف یمن کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام سے ہی وابستہ ہے۔









