بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طالبان دور میں افغانستان شدید سیکیورٹی بحران کا شکار، جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ ملک

عالمی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP) کی تازہ سالانہ گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ کے مطابق افغانستان ایک بار پھر دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار ملک میں امن کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور سیکیورٹی خطرات سنگین ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان 163 ممالک میں امن کے عالمی اشاریے میں 158 ویں نمبر پر ہے، اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.28 فیصد مزید تنزلی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ ملک شدید سیکیورٹی بحران کا شکار ہے۔
گلوبل پیس انڈیکس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ اور کمزور ملک بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تشدد، ہتھیاروں کی آسان دستیابی، کمزور حکمرانی اور مسلسل عدم استحکام نے ملکی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں سرگرم مسلح دہشت گرد گروہ نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور انہیں جدید ہتھیاروں تک وسیع رسائی حاصل ہے، جس سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران نے نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کے اثر میں لا دیا ہے، جس سے سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں یہ بگڑتی ہوئی صورتحال پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔ آئی ای پی نے بتایا کہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست پاکستان پر اثر انداز ہو رہی ہیں اور 2025 میں یہ اثرات مزید پیچیدہ اور سنگین ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر بھی افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے شواہد پیش کیے ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران خطے کے امن کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔