لاہور میں ایک متنازعہ کیس میں سول جج کی اہلیہ انم، سسر الیاس اور سالے حسیب کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے نام کا جعلی خط بنانے کے الزام پر درج مقدمہ خارج کر دیا گیا۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست ضمانت نمٹائی۔ تفتیشی افسر کے مطابق مقدمہ بے بنیاد تھا اور تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ ملزمان نے جعلی خط بنایا۔
ملزمان کی جانب سے وکیل وقار اے شیخ عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیے کہ سول جج تاندلیانوالہ علی رضا نے اپنی بیوی کا جعلی اجازت نامہ تیار کر کے دوسری شادی کی اور اس جعلی اجازت نامے کے الزام پر بیوی نے مقدمہ درج کروا دیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ سول جج نے مقامی بار کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی لیٹر ہائیکورٹ کے نام بنایا اور اسے اپنی پہلی بیوی، سسر اور سالے سے منسوب کر کے مقدمہ درج کروایا گیا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا، اور کہا کہ مقدمہ میں کوئی حقیقی شواہد موجود نہیں ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے نام کا جعلی خط بنانے کے الزام پر سول جج کی اہلیہ، سسر اور سالے کے خلاف مقدمہ خارج








