پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہائی ویز پر اوور لوڈ ٹرکوں سے تقریباً 16 ارب روپے کی ریکوری نہیں کی گئی، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔
آڈٹ حکام کے مطابق، کل 18 ہزار ٹرکوں پر اوور لوڈ کے جرمانے کے طور پر 17 ارب روپے کا تعین کیا گیا تھا، لیکن این ایچ اے نے اس میں سے 16 ارب روپے وصول نہیں کیے۔
سیکریٹری این ایچ اے نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں سڑکوں پر ایکسل لوڈ کی چیکنگ کا عمل 90 فیصد سے زائد فعال ہے، اور آڈٹ حکام نے جرمانے کی رقم ایک مفروضے کی بنیاد پر نکالی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ این ایچ اے کے پاس کل 236 ایکسل لوڈ چیکنگ سسٹمز موجود ہیں، اور نومبر 2023 سے پہلے یہ نظام موجود نہیں تھا۔ اس وقت ہائی ویز اور موٹرویز کے تقریباً 78 فیصد حصے پر ایکسل لوڈ کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ یہ تمام ڈیٹا این ایچ اے کا ہے اور ان کا ادارہ مکمل طور پر چیکنگ میں مصروف ہے۔
ہائی ویز پر اوور لوڈ ٹرکوں سے 16 ارب روپے کی وصولی نہ ہونے کا انکشاف








