ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک پالیسی اصلاحات کے اثرات واضح ہونے لگے ہیں اور پاکستانی معیشت گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری دکھا رہی ہے۔ زرعی، صنعتی اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار ترقی نے ملکی اقتصادی استحکام اور سرمایہ کاری کے مواقع میں تاریخی اضافہ کیا ہے۔
رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2.15 فیصد زیادہ ہے، جس سے ملکی معیشت میں حوصلہ افزا پیش رفت کی عکاسی ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق صنعتی شعبے نے 9.38 فیصد نمو حاصل کی، جو گزشتہ سال کی محض 0.12 فیصد ترقی کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ زرعی شعبے میں 2.89 فیصد جبکہ لائیو اسٹاک میں 6.29 فیصد اضافہ نے ملکی معیشت کے متوازن اور مستحکم ہونے کی ضمانت دی ہے۔ یہ ترقی نہ صرف پیداوار بڑھانے بلکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کا سبب بھی بنی ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 5.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آٹوموبائل اور ٹرانسپورٹ شعبے میں بالترتیب 84.6 فیصد اور 40.7 فیصد شاندار نمو دیکھی گئی۔ مالی اور انشورنس شعبے نے بھی 10.36 فیصد ترقی کے ساتھ گزشتہ سال کے منفی اثرات سے بحالی کا مظاہرہ کیا۔
تعمیرات، تعلیم، صحت، پبلک ایڈمنسٹریشن اور جنگلات کے شعبے بھی مثبت ترقی کی راہ پر ہیں، جو مجموعی طور پر معیشت کے مستحکم اور متوازن رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس تسلسل کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی استحکام اور ترقی نے ملک کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنایا ہے۔ مختلف شعبوں میں مستقل مثبت کارکردگی نے نہ صرف معیشت کو مضبوط بنایا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔









