بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میڈیاکی آزادی پر صدرنے حلف کی خلاف ورزی کی، اس معاملے کو سیاسی تعصب کی عینک سے نہ دیکھیں،رضاربانی

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پیپلزپارٹی کے رہنماوسابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے میڈیاکی آزادی کے بارے میں صدرڈاکٹر عارف علوی کی تشویش کو’’مخصوص ‘ ‘ قراردیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کوسیاسی تعصب کی عینک سے نہ دیکھیں ۔صحافیوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے رضاربانی نے کہا کہ تمام پاکستانی شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور صدر پاکستان کو اس معاملے پر کوئی مخصوص اندازنہیں اپنانا چاہیے ۔ رضا ربانی نے سیاسی فریقوں کے درمیان مکالمے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اس معاملے کو دبانے کا متقاضی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عارف علوی بطور صدر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ انہوں نے حلف کی خلاف ورزی کی اور وہ سب شہریوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی صدرعلوی نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ،اس حوالے سے انہوں نے اپنے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کےلئے صدر کے حلف کے اس حصے کا ذکر بھی کیاکہ ’’ ہر طرح کے حالات میں قانون کے مطابق، بلاخوف وخطر اور پسند نا پسند کے بغیر تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کروں گا ۔رضا ربانی نے کہا کہ صدر نے گزشتہ ایک سال میں یعنی مئی2021تا اپریل2022تک میڈیا کے خلاف 86کیسز سامنے آئے ،ان میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کی خلاف ورزیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔انہوں نے کہا کہ دی فریڈم نیٹ ورک کی اپریل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ عمران خان کے دور حکومت میں’’ سٹیٹ ایکٹرز‘‘ صحافیوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنے رہے ۔انہوں نے عارف علوی پر زوردیا کہ وہ حکومت سے کہیں کہ وہ ذرائع ابلاغ کے خلاف خاص طور پر پی ٹی آئی دورحکومت میں اسد علی طور ،ابصار عالم ،مطیع اللہ جان اور دوسرے صحافیوں پر ہونے والے حملوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے میڈیا کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی فوری ، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کرائے ۔انہوں نے کہا کہ صدر نے حامد میر سمیت اینکروں اور عامل صحافیوں کی نوکریوں سے معطلی کے معاملے پر بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے کوئی جواب طلبی نہیں کی ۔انہوں نے گزشتہ حکومتوں کی جانب سے کیبل آپریٹرزکو روکنے ،ٹی وی چینلزکی بندش اور خواتین صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا مہم کےلئے ریگولیٹری اداروں کا بھی استعمال کیا۔ واضح رہے کہ اس پہلے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےوزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ہراساں کرنے اور ان پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات معاشرے میں موجود عدم برداشت کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ خط میں انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 19 میں دی گئی ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات معاشرے میں موجود عدم برداشت کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، اس طرح کے اقدامات نہ صرف دنیا کی نظروں میں آکر ہمارے ملک کی ساکھ، اس کے تشخص کو داغدار کرتے ہیں بلکہ ان کے جمہوریت کے مستقبل کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے خط میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان فریڈم آف پریس انڈیکس 2022 میں 157ویں نمبر پر ہے جو بہت پست اور نچلی سطح ہے۔