بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مودی حکومت کی ناکام سفارت کاری بے نقاب، امریکی ٹیرف سے بھارتی معیشت اور عوام دباؤ میں

نئی دہلی/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) بھارت کی خارجہ اور تجارتی پالیسی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق دکھاوے، جھوٹ اور تکبر پر مبنی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے منفی نتائج اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے نہ پانے کی اصل وجہ مودی حکومت کی ہٹ دھرمی کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اہم مرحلے پر لچک نہ دکھانے کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مودی گھبراہٹ کا شکار تھے، اسی وجہ سے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست رابطہ تک نہیں کیا۔

امریکی حکام کے مطابق بھارت کے برعکس امریکا نے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے کر لیے ہیں، جس سے خطے میں بھارت کی سفارتی اور معاشی تنہائی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت کو ایک “مردہ معیشت” قرار دے چکے ہیں، جبکہ اب امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک بڑے ٹیرف کے نفاذ کا امکان ایک اور بڑی سفارتی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت کی نااہل سفارت کاری اور غیر سنجیدہ فیصلوں کا خمیازہ براہِ راست بھارتی عوام بھگت رہے ہیں، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس امر کی واضح عکاس ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی محض نعروں اور دعوؤں تک محدود رہی، جبکہ عملی سطح پر بھارت کو مسلسل سفارتی اور معاشی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔