بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اے آر رحمان کے بیان نے بالی ووڈ میں نئی بحث کو جنم دے دیا

آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے حالیہ بیان نے ہندی فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رحمان نے انکشاف کیا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں ان کے پاس آنے والے کام کی مقدار میں کمی آئی ہے، اور اس کا سبب وہ فیصلہ سازی میں تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلے کرنے والے لوگ وہ نہیں جو تخلیقی صلاحیت رکھتے ہوں، اور بعض اوقات اس تبدیلی کے پیچھے ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ براہِ راست ظاہر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں افواہوں کے ذریعے بتایا جاتا رہا کہ انہیں کسی پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن آخرکار میوزک کمپنی نے دوسرے پانچ کمپوزرز کو منتخب کر لیا۔
جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے اے آر رحمان ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے والے پہلے موسیقار ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت سے خود کو منوایا۔ رحمان نے اس صورتحال پر پُرسکون ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی اچھا ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔
رحمان کے تبصروں پر ردِعمل دیتے ہوئے معروف گلوکار ہری ہرن نے کہا کہ موجودہ نظام نہ مکمل طور پر سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، بلکہ یہ ایک گرے ایریا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کے فیصلے کرنے والے زیادہ تخلیقی لوگ یا کم از کم وہ لوگ ہونے چاہئیں جو موسیقی کو سمجھتے ہوں۔ ہری ہرن نے زور دیا کہ فن میں تجارتی مفادات کے بجائے حساسیت کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ صرف پیسے کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے جائیں تو مستقبل کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح موسیقار اور گلوکار لیسلی لیوس نے بھی کہا کہ طاقت کا توازن بدلا ہے، لیکن یہ تبدیلی ایک فطری عمل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میوزک انڈسٹری میں اب نئے خیالات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے پورا منظرنامہ بدل دیا ہے، جس سے فنکار اپنے لیبل کے ساتھ ابھرنے کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، لیوس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فیصلہ سازی اب زیادہ کارپوریٹ ہو گئی ہے، اور اکثر لوگ اپنی ملازمت کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں، چاہے وہ موسیقی سے محبت کرتے ہوں یا نہیں، لیکن ہر وقت صحیح فنکار کے انتخاب کا تجربہ نہیں رکھتے۔
یہ تبصرے ہندی فلم انڈسٹری میں تخلیقی آزادی، فیصلہ سازی کے معیار اور نئی ڈیجیٹل دنیا کے اثرات پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہے ہیں۔