اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پائے جانے والے پیپر مل بیری (جسے عام زبان میں جنگلی شہتوت کہا جاتا ہے) کے درخت مقامی نہیں ہیں۔ یہ درخت 1970 کی دہائی میں اسلام آباد کو جلد سرسبز بنانے کے لیے بیرونِ ملک سے بیج لا کر لگائے گئے تھے، تاہم اُس وقت ان کے صحت پر مضر اثرات سے متعلق کوئی تحقیق موجود نہیں تھی۔
منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں انہوں نے بتایا کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں یہ بات سامنے آئی کہ اسلام آباد میں الرجی، پولن الرجی اور دمے کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بنیادی وجہ پیپر مل بیری کے درخت ہیں، اسی تناظر میں 2024 میں ان درختوں کی کٹائی کا عمل شروع کیا گیا، تاہم ازخود نوٹس کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان نے اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہدایت پر، کٹائی روک دی۔بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کیے گئے کمیشن نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ پیپر مل بیری کے درختوں کی کٹائی صحتِ عامہ کے لیے ناگزیر ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے بعد کٹائی دوبارہ شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 26 ہزار درخت کاٹے گئے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت نے ایک درخت کے بدلے تین درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جس کے تحت اب تک صرف ایف نائن پارک میں 46 ہزار سے زائد نئے درخت لگائے جا چکے ہیں، جبکہ شکرپڑیاں سمیت دیگر مقامات پر بھی شجرکاری جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شفافیت کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سپارکو کو مدعو کیا، جس نے سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے دو اور تین سال پرانی، کٹائی کے دوران اور موجودہ صورتحال کی تصاویر فراہم کیں، جو ایوان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ اسلام آباد میں سڑکیں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز ذاتی فیصلوں پر بنائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سڑک، سیکٹر یا سوسائٹی اسلام آباد کے ماسٹر پلان (1960) اور سی ڈی اے کے زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت ہی بنائی جاتی ہے۔ انہوں نے زوننگ کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ زون ون: سیکٹر ایریا،زون ٹو: پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز ،زون تھری: جنگلات و مارگلہ ہلز ،زون فور: فارم ہاؤسز و محدود ہاؤسنگ، زون فائیو: روات ایریا (ہاؤسنگ کے لیے مختص) ہیں ۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت کا مقصد اسلام آباد کے گرین ایریاز کو ختم کرنا نہیں بلکہ شہر کے ماسٹر پلان کے مطابق اس کے قدرتی حسن اور سبز شناخت کو برقرار رکھنا ہے۔









