اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد علی گیلانی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری میں تعاون کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
صدر ہائیکورٹ بار نے کہا، “میں درود شریف پڑھ کر قسم کھاتا ہوں کہ ہم نے انہیں جان بوجھ کر پولیس کے حوالے نہیں کیا۔ جو لوگ ہمارے یا ہائیکورٹ بار پر الزام لگا رہے ہیں، وہ دراصل اپنے اعمال کے نتائج بھگت رہے ہیں۔”
واجد علی گیلانی نے مزید بتایا کہ دونوں کے خلاف کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پہلے ہی دائر کی گئی تھی اور اس حوالے سے چیف جسٹس اور سیکرٹری مطلع تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا تھا، جس کے بعد ہم نے دونوں کو محفوظ طریقے سے ہائی کورٹ بار کے دفتر منتقل کیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری میں تعاون کے الزامات پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا موقف سامنے آ گیا








