بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میلانیا ٹرمپ کی دستاویزی فلم ریلیز سے پہلے ہی مشکلات میں گھِر گئی

امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم، جس پر 75 ملین ڈالرز خرچ کیے گئے، امریکا اور برطانیہ میں باکس آفس پر ریلیز ہونے سے پہلے ہی کمزور آغاز کا شکار ہو گئی ہے۔
فلم کا ٹائمز اسکوائر، نیویارک میں شام 7:30 بجے کے شوز میں ایک بھی ٹکٹ فروخت نہیں ہوا، اور لندن کے زیادہ تر سنیما گھروں میں بھی ہجوم نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ اس ناکامی نے وسط مدتی انتخابات کے دوران صدر ٹرمپ کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، حالانکہ ان کی سوشل میڈیا ویب سائٹ ‘ٹرتھ سوشل پر فلم کو بھرپور انداز میں پروموٹ کیا جا رہا ہے۔
دستاویزی فلم میلانیا میں صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے 20 دن قبل کی زندگی دکھائی گئی ہے، اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ میلانیا نے فلم میں کام کرنے کے لیے 28 ملین ڈالرز حاصل کیے ہیں۔ اس کے حقوق اسٹریمنگ پلیٹ فارم ایمازون نے 40 ملین ڈالرز میں خریدے جبکہ مارکیٹنگ اور تقسیم پر مزید 35 ملین ڈالرز خرچ کیے گئے۔
میلانیا ٹرمپ نے بتایا کہ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ کس طرح اپنے بزنس، فلاحی سرگرمیوں اور فیملی کی دیکھ بھال کرتی رہی ہیں اور وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کو تیار کیا۔ تاہم، ایک امریکی میزبان نے اس پر طنز کیا کہ تاریخی ایسٹ ونگ اب موجود نہیں کیونکہ اسے گرا کر بال روم بنایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، فلم کی ٹیم کے کئی ارکان نے دستاویزی فلم کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اپنے نام اینڈ کریڈٹس سے نکال دیے۔ کچھ حلقوں نے میلانیا پر تنقید بھی کی کہ منی سوٹا میں فائرنگ کے واقعے کے دوران وہ اپنی فلم کی تشہیر میں مصروف تھیں۔
یہ فلم ریلیز سے پہلے ہی تنازع اور کمزور استقبال کا سامنا کر رہی ہے، جس سے میلانیا ٹرمپ کی دستاویزی کوشش کو متنازع اور مبہم آغاز کا سامنا ہے۔