پاکستان میں آلو کی گرتی ہوئی قیمتوں نے کاشت کاروں کے لیے پریشانی کی لہر دوڑا دی ہے۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایکڑ آلو کی فصل اگانے پر تقریباً 3 لاکھ روپے لاگت آتی ہے، لیکن اب کوئی بھی 50 ہزار روپے میں اسے خریدنے کو تیار نہیں ہے۔
کاشت کاروں نے بتایا کہ پاکستان میں زراعت اب گھاٹے کا سودا بنتی جا رہی ہے اور پیداوار کی لاگت پورا کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ مڈل مین ہمیشہ منافع اپنے حصے میں لیتے تھے، لیکن اس بار آلو کی کم قیمت نے نہ صرف کاشت کاروں بلکہ مڈل مین کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ فصل میں نقصانات کی وجہ سے نئے سال میں نئی فصل لگانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس سے زراعت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کسانوں کے لیے حالات دن بہ دن مشکل تر ہو رہے ہیں۔
آلو کی قیمتوں میں کمی، کاشت کار پریشان: ایکڑ کی فصل کا خسارہ بڑھ گیا








