اسلام آباد(ممتاز نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے سربراہ سینیٹرمشاہدحسین سید نے کہاہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت نے اچھی بریفنگ دی،اس وقت ہماری فوجی کمان بہت کھلے ذہن کی ہے اورکھل کر بات ہوئی،صرف محسن داوڑنےکالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کی مخالفت کی۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں مشاہدحسین سیدنے کہاکہ میں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھایا،میں نے کہاکہ 21ویں صدی میں بھی لاپتہ افراد کا ہونا شرمناک پہلو ہے، اجلاس میں آرمی چیف نے کہاکہ لاپتہ افراد پر قانون سازی کریں،جاسوسی اور دہشت گردی کے خلاف ایجنسیوں کے کردار پرقانون بنائیں ،ہرپاکستانی شہری کے آئین کے تحت حقوق ہیں ،آپ ایجنسیز کو قانون کے تحت کسی کا اٹھانے کا اختیاردیتے ہویں تو 48گھنٹے میں اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتاہوں کہ اس پر قانون سازی ہونی چاہیے ،میں جب باہرجاتاہوں تو بات ہوتی ہے کہ بلوچستان کے لوگ لاپتہ ہیں،ایسی صورت میں کشمیراور دوسرے ایشوز پر آپ کی کیا پوزیشن رہ جاتی ہے ،چنانچہ ہم دوہرے معیار نہیں رکھ سکتے ،ملک میں قانون کی بالادستی اور حقوق کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔
انہوں نے کہاکہ صرف محسن داوڑنےکالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کی مخالفت کی، تحفظات کے باوجود بلاول بھٹونے مذاکرات کی مستندحمایت کی،بلاول میں شعور ہے ،انہوں نے والدہ کی شہادت سے متعلق بھی بات کی ۔
مشاہدحسین سید نے کہاکہ پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کی صورت میں علاقائی روابط کے حوالے سے کلیدی کرداراداکرنے جارہاہے،میں سمجھتاہوں کہ ہمارے پاس سٹرٹیجک مواقع موجود ہیں،ایک موقع ہے کہ ہم اپناموقف اجاگرکریں ،علاقائی خارجہ پالیسی بنائیں اور واشنگٹن ،لندن اور برسلزکی طرف نہ دیکھیں کہ وہ کیاکہہ رہے ہیں،ان کو ہماری زیادہ ضرورت ہے بنسبت ہماری ان کی لیکن ذہن سے خوف نکال دیں۔
انہوں نے کہاکہ جب آپ خود ہی ڈرجاتے ہیں تو پھر وہ زیادہ ڈراتے ہیں،معیشت کا سوال یہ ہےکہ بائیس مرتبہ ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں،ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آئی ایم ایف کے متبادل بھی کوئی راستہ ہوسکتاہے یا نہیں،پاکستان پہلاملک تھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعدبیرونی جارحیت کی وجہ سے دو لخت ہوا،ہماری قیادت نے سوچاکہ خودانحصاری کا متبادل راستہ بھی ہے،پھر چین سے دوستی بھی کی او ر ایٹم بم بنایاجس کاکریڈٹ میں ذوالفقارعلی بھٹوکودیتاہوں،اس وقت جو فیصلہ کیاگیا اسی کی وجہ سے اب ہم بچے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امرکی ہےکہ آپ بڑے فیصلے کرنے کی ہمت کریں،ہم داخلی طور پر اصلاحات کیوں نہیں لاتے،اپناطرززندگی کیوں نہیںبدلتے،یہ روایتی سوچ ہے کہ جاکر بھیک مانگیں اور ایک فون کال پر عملدرآمدکریں،کوئی اقتصادی مجبوری نہیں،یہ ہماری سوچ اور خوف کی عکاس ہے۔
مشاہدحسین سید نے کہاکہ جب جنرل کیانی آرمی چیف تھے تو انہوں 14صفحات کا پیپرتیارکیا اور نومبر2010میں وائٹ ہاؤس لے کرگئے،اگرچہ ان کی ملاقات امریکہ کے قومی سلامتی کے حکام سے تھی تاہم وہاں اس وقت کے امریکی صدراوبامابھی آگئے،جنرل کیانی نے کہاکہ یہ چودہ صفحے کا پیپرہے،جس میں ہم نےبتایاہے کہ فلاں فلاں اقدامات کریں،آپ یہ جنگ نہیں جیت سکتے،آپ کی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں،آپ کےلئے ایک ہی راستہ ہے مذاکرات کا،اوبامانے وعدہ کیا میں اس کو سٹڈی کروں گالیکن چونکہ امریکی فوج چاہتی تھی کہ جنگ جاری رہے اس لئے اوبامہ یرک گیا، امریکہ نے سوا 2کھرب ڈالرافغانستان میں ضائع کیے،گھوسٹ فوجیوںکامال افغانی ،امریکی جرنیل اورٹھیکیدار کھارہے تھے ،دس سے امریکہ کو کہہ رہے تھے کہ مذاکرات ہی افغانستان کا حل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جو کہتے تھے کہ افغان آرمی ساڑھے تین لاکھ کی فوج ہے وہ گھوسٹ آرمی تھی ان کی اصل تعداد پچاس ہزارتھی لیکن تنخواہ ساڑھے تین لاکھ کی مل رہی تھی یہ پیسے نہ صرف افغانیوں بلکہ ان امریکیوں کے پاس بھی جارہےتھےجو ٹھیکیدار،بزنس مین اورسیاستدان تھے حتیٰ کہ جرنیل بھی تھےیہ کرپشن اور پیسے بنانے کا بہت بڑاذریعہ تھااتنی بڑی کرپشن پر امریکہ میں ایک انکوائری بھی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد امریکہ اور مغرب ناکام ہوگئے ،صرف پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ،یہ جنگ ہماری فوج نے قوم کی قربانیوں سے جیتی جس میں اے پی ایس جیساواقعہ بھی تھا یہ کامیابی عوام،پارلیمنٹ کی تائید کے ساتھ ہوئی ہے۔
ہمارے تحفظات یہ ہیں کہ جب کوئی بندہ تبدیل ہوتاہے توکئی دفعہ ہماری پالیسیاں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں ،مثلاً میں اور چودھری شجاعت حسین نے نواب اکبربگٹی سے کامیاب مذاکرات کئے،ان میں اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ شامل تھی لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کہاں سے اورلائن آئی اور پالیسی بدل گئی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہےہماری پالیسی میں تسلسل نہیں ہوتا،وزیراعظم ،آرمی چیف چلاجائے تو پالیسی بدل جاتی ہےکمیٹی کے اجلاس میں ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس بار ہم پرانی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔
آرمی چیف نے لاپتہ افراد،جاسوسی اور دہشت گردی کیخلاف ایجنسیزکے کردارپر قانون سازی کا کہاہے،مشاہدحسین سید








