جنوبی کوریا کے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بٹ ہمب نے ایک تکنیکی غلطی کے باعث اپنے صارفین کو 40 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن دے دیے، جس سے وہ قلیل مدت کے لیے کروڑ پتی بن گئے۔
اصل میں کمپنی اپنے صارفین کو دو ہزار وون (تقریباً 1.37 امریکی ڈالر) کا چھوٹا سا نقد انعام دینے کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن جمعہ کے روز ایک ٹیکنیکل مسئلے کے سبب صارفین کو دو ہزار کے بجائے دو، دو ہزار بٹ کوائنز ٹرانسفر کر دیے گئے۔
بٹ ہمب نے اپنی غلطی پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جلد ہی اس کا احساس ہو گیا اور تقریباً تمام کرپٹو ٹوکن واپس حاصل کر لیے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ 695 متاثرہ صارفین کے اکاؤنٹس میں ٹریڈنگ اور رقم نکالنے کی صلاحیت 35 منٹ کے اندر محدود کر دی گئی تھی، اور 620,000 بٹ کوائنز میں سے 99.7 فیصد واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ واقعہ ہیکنگ یا سکیورٹی کے مسئلے کی وجہ سے نہیں ہوا، اور صارفین کے اثاثوں یا سسٹم کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی۔
اس واقعے کے بعد جنوبی کوریا کے مالیاتی ریگولیٹر نے ہنگامی اجلاس بلایا اور کہا کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی صورت میں باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی، جبکہ بٹ ہمب نے ریگولیٹرز کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا۔
بٹ ہمب کے سی ای او لی جے وون نے کہا: “ہم اس حادثے کو سبق کے طور پر لیں گے اور صارفین کے اعتماد اور ذہنی سکون کو ترجیح دیں گے۔” کمپنی نے اس موقع پر تمام موجودہ صارفین کو 20,000 وون (تقریباً 13.66 امریکی ڈالر) دینے، ٹریڈنگ فیس معاف کرنے اور دیگر اقدامات کرنے کا بھی اعلان کیا۔
مزید برآں، بٹ ہمب نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ویریفکیشن سسٹم میں بہتری لائے گی اور غیر معمولی لین دین کا پتا لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت متعارف کرائے گی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر مالیاتی نظام میں سخت ریگولیٹری کنٹرول کی ضرورت پر بحث کو جنم دیا ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2024 میں امریکی بینک سٹی گروپ نے بھی ایک ٹرانزیکشن کی غلطی کے باعث 280 ڈالر کی بجائے 810 کھرب ڈالر کسی صارف کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیے تھے، تاہم چند گھنٹوں کے اندر یہ رقم واپس کر دی گئی تھی۔
جنوبی کوریا کے کرپٹو ایکسچینج کی غلطی، صارفین قلیل مدت کے لیے اربوں ڈالر کے بٹ کوائن کے مالک بن گئے








