بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد دیرپا نظام کا قیام ہے، ڈبلیو ای ایف

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) مشعل پاکستان، جو ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا کنٹری پارٹنر انسٹیٹیوٹ ہے، نے پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے۔

رپورٹ میں ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت، ڈیجیٹل اقدامات اور اقتصادی و سماجی شعبوں میں کیے گئے اقدامات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک کے 135 سے زائد وفاقی اداروں میں مجموعی طور پر 600 اصلاحاتی اقدامات کیے گئے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد وقتی فیصلوں کے بجائے دیرپا نظام قائم کرنا رہا۔ پاکستان ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 کے نفاذ سے ڈیجیٹل معیشت کے لیے قومی فریم ورک تیار کیا گیا جبکہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کے قیام سے ڈیجیٹل گورننس مضبوط ہوئی۔

الیکٹرانک جرائم ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب کو بہتر بنایا گیا۔ اسکل ٹیک پاکستان کے تحت 2,700 انٹرنز کو عملی تربیت دی گئی اور 12,600 پیشہ ورانہ سرٹیفکیشنز جاری کی گئیں۔ نیشنل آئی سی ٹی انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے 1,000 سے زائد گریجویٹس کو صنعت سے منسلک کیا گیا اور ملک بھر میں 20 ای-روزگار مراکز قائم کر کے فری لانسنگ کو فروغ دیا گیا۔

وزارتِ دفاع اور دیگر شعبوں میں پنشن نظام میں ڈائریکٹ کریڈٹ متعارف کرایا گیا، راَست (RAAST) کے ذریعے ادائیگیوں میں شفافیت اور رفتار میں اضافہ ہوا، جبکہ توانائی اور توانائی کی درآمدات میں اصلاحات سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی۔ صنعتی، دفاعی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے بھی نمایاں پیش رفت ہوئی۔

رپورٹ میں تعلیم، انسانی حقوق، خواتین کی معاشی شمولیت، صحت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور نجکاری کے شعبوں میں کیے گئے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہے۔ اس میں E-Office، ڈیجیٹل ریکارڈ روم، آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، ڈیجیٹل کارپوریٹ رجسٹری اور آسان کنیکٹ پورٹل جیسے اقدامات کے ذریعے شفافیت اور استعداد کاری میں اضافہ نمایاں کیا گیا ہے۔

وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سیلاب زدگان کی معاونت، شہری سہولتیں، سرمایہ کاری، ریگولیٹری اصلاحات اور قومی انسانی حقوق کے تحفظ کے اقدامات رپورٹ میں درج ہیں۔ رپورٹ کا مجموعی مقصد ریاستی اداروں میں شفافیت، استحکام اور مؤثر حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔

یہ رپورٹ پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں اور مستقبل کے منصوبوں کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے، جس میں اقتصادی ترقی، سماجی بہبود اور ڈیجیٹل انقلاب کے تمام اہم پہلو شامل ہیں۔