اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے غیر قانونی فیصلوں اور اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے پر غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے، بستیاں بڑھانے اور نئی قانونی و انتظامی حقیقت قائم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے فتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے اس بات کو دوہرایا کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی حق خودمختاری نہیں ہے۔
وزرائے خارجہ نے انتباہ کیا کہ اسرائیلی حکومت کی مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلسل توسیع پسندانہ پالیسیاں اور غیر قانونی اقدامات خطے میں تشدد اور تنازعات کو بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے ان غیر قانونی کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کیا جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور فلسطینی عوام کے جائز حق خودمختار ریاست کے قیام میں رکاوٹ بنتی ہیں، جس کا دارالحکومت مقبوضہ یروشلم ہو۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہ اقدامات کالعدم ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قرارات، خصوصاً قرارداد 2334 اور 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی رائے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک اقدامات روکنے پر مجبور کرے اور اپنے اہلکاروں کے اشتعال انگیز بیانات کو روکے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاست قائم کرنے کے جائز حقوق کی تکمیل، دو ریاستی حل اور عرب امن منصوبے کے مطابق، خطے میں امن و استحکام کے لیے واحد راستہ ہے۔









