اسلام آباد(ممتاز نیوز)چیئرمین ارسا زائد جونیجونے کہا ہے کہ اگر زیادہ بارشیں نہیں ہوتی تو ربیع میں پچاس فیصد سے زیادہ پانی کی کمی ہوگی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کااجلاس یوسف طالپور کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کو حالیہ بارشوں کے بعد پانی کی صورتحال پر بریفننگ دی گئی۔ حکام نے کہا کہ جولائی میں بارشیں ہوئیں اس سے قبل پانی کی کمی کا سامنا تھا۔نزہت پٹھان نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے غلط موسم کی تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔صوبے کتنے پانی استعمال کر چکے ہیں۔چیئرمین ارسا نے کہا کہ کے پی نے اپنے شیئر سے 42 فیصد زیادہ پانی استعمال کیا۔یوسف تالپورنے سوال کیاکہ کیا بھارت پانی تو نہیں روک رہا۔ہمیں پانی کی کمی کے پیش نظر متبادل کی طرف جانا ہوگا۔آبی وسائل کی کمیٹی میں صوبوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔پنجاب کا نمائندہ موجود ہے مگر سندھ اور بلوچستان کے نمائندے موجود نہیں ہیں۔چیئرمین ارسا زائد جونیجو نے کہا کہ دریائے چناب پر کوئی اسٹوریج ڈیم نہیں ہے ۔پانی کے بہاؤ پر جتنا پانی ہو گا وہ آئے گا۔جہلم پر بھی پانی کا بہاؤ ہے اس پر کوئی ڈیم نہیں۔وولر جھیل بھی قدرتی ہے اس پر کنٹرول ممکن نہیں۔موجودہ بارشیں مجموعی پانی کی ضرورت سے کم ہیں۔منگلا میں دس فیصد پانی ہے اور اس ڈیم کو بھرنے کے لئے مزید بارشوں کی ضرورت ہے۔چیئرمین ارسا نے مزید کہا کہ ہمارا پانی کا ذخیرہ ابھی بھی ستر فیصد کم ہے۔ربیح میں پانی کی کمی ہو گی تو سوچیں خریف میں کیا ہوگا۔اگر بارشیں اچھی ہو جاتی ہیں تو پانی کی کمی کم ہو سکتی ہے۔اگر زیادہ بارشیں نہیں ہوتی تو ربیع میں پچاس فیصد سے زیادہ پانی کی کمی ہوگی۔ کاظم نیاز سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ اپریل دس سال کا خشک ترین مہینہ تھا۔اب جولائی میں شدید بارشیں ہوئیں ہیں۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں شرکت کے لئے چیف سیکرٹری سندھ اور بلوچستان کو خط لکھ دیا۔
ارسا نے پانی کی کمی سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی








