بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کیلئے کام شروع ،صدر علوی فوری مستعفی ہوں،وفاقی کابینہ کل اہم فیصلوں کی منظوری دے گی،وزیرداخلہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلےسے آئین کی سر بلندی ہوئی، آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کیلئے کام شروع کردیا گیا ہے،صدرعارف علوی کواس فیصلے کے بعد چاہیے کہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں،وفاقی کابینہ کل اپنے اجلاس میں فیصلے کی روشنی میں اہم فیصلوں کی منظوری دے گی، عدالتی فیصلے کی روشنی میں سپیکربھی الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے تمام ارکان کی نااہلی کا ریفرنس بھجواسکتے ہیں، عمران خان کوگرفتارکرنے کوتیارہوں، شیخ رشید لانگ مارچ کے دوران میرے ہاتھ نہیں آئے، سابق صدر پرویزمشرف اسی دنیامیں سزابھگت رہے ہیں اور وہ عبرت کانشان ہیں۔
جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلےسے آئین کی سر بلندی ہوئی ہے، آئین پاکستان عوام کی مقدس امانت ہے اور یہ ساری چیزیں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں بیان کی گئی ہیں، ملک کے آئین کیساتھ فراڈ سے بڑا کوئی اور جرم نہیں اور اس کی سزا آرٹیکل 5 اور 6 میں درج ہے، جس کے بعد آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کیلیے کام شروع کردیا گیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر مملکت کو اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے، اس فیصلے کے بعد عمران نیازی کی سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے، فیصلے کے اندر جو اختلافی نوٹ ہے وہ بہت اہم ہے، عمران خان اپنی ذات کیلئے قومی مفاد کو بھی داؤ پر لگا سکتا ہے اور اس نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا، اس نالائق اور نااہل ٹولے کی اب سیاست کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت آرٹیکل 6 کا ریفرنس بھیج سکتی ہے اس پر کام شروع ہوچکا ہے، وفاقی حکومت اس فیصلے کی رو سے پابند ہوچکی ہے، فیصلےمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیا پارلیمنٹ آئینی خلاف ورزی کو کھلا رکھے گی یا بند کریگی؟ اور میں نہیں سمجھتا کہ وفاقی حکومت اور معزز پارلیمنٹ اس راستے کو کھلا رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں اسپیکر اس فیصلے کی روشنی میں نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوائے اور الیکشن کمیشن ان کو ڈی سیٹ اور قانون کے مطابق نااہل قرار دے اور آئین سے کھلواڑ پر ان کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ کرے، آج پاکستان میں رول آف آئین کیلئے جدوجہد کرنے والوں کا دن ہے، بات چیت پہلے بھی ہوتی تھی اب بھی ہوسکتی ہے، فیصلوں پر بھی بات ہوسکتی ہے لیکن فیصلہ فیصلہ ہی ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق اور حتمی ہے اور اس پر عمل ہونا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میں عمران خان کو گرفتار کرنے کیلیے تیار ہوں لیکن 188 کے مقدمے میں گرفتار نہیں کرنا چاہتا کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تو دفعہ 188 سے بھی بڑھ کر ہے، کابینہ عمران خان کیخلاف مقدمے کی اجازت دیتی ہے تو گرفتار کیا جا سکتا ہے، دو صوبوں کے وسائل اور مسلح جتھے کیساتھ وفاق پر حملے کی کوشش کی گئی،قانون جو بھی اپنا راستہ لے گا اس پر چلیں گے۔
وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ ان کا شیخ رشید کو لانگ مارچ کے دوران گرفتارکرنے کا ارادہ تھا، اسے بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہیں ملا، فواد چوہدری سے کہتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی حیثیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ نافذ ہونا ہے اور وہی سچ ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نوازشریف کی سزا معطل کرکے باہر علاج کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کی سزا بحال ہو وہ واپس آئیں، اپیلوں کی پیروی کریں اور مجھے پوری امید ہے کہ وہ عدالتوں سے بری ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور ایم این اے سیاست سے نااہل کا اختیار اسپیکر قومی اسمبلی کو ہے، ملک آئین و قانون کے مطابق چلانا ہے تو کارروائی کرنا ہوگی، کل کابینہ کا اجلاس کل ہے اور امید ہے کہ کل اجلاس میں اس پر بات چیت ہوگی۔