ڈیرہ غازی خان(نیوزڈیسک)سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی ، عدالت سے پوچھتا ہوں کہ جب صدر نے مراسلہ بھجوایا تو کیا اپ کو تحقیقات نہیں کرنی چاہئے تھیں؟ ،22کروڑ عوام کیلئے اس سے زیادہ توہین کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ملک کے وزیراعظم کو دھمکی دے کر ہٹوا دیا گیا اور کچھ نہیں ہوا ۔
جمعرات کو ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہاکہ ڈی جی خان میں عوام کا سمندر امڈ آیا ہے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیراعلی لگایا تاکہ اسے اس علاقے کی محرومیوں کا احساس ہو،عثمان بزدار ڈرامے اور ایکٹنگ نہیں کام کرتا تھا ،جو کام اس علاقے میں 3 سالوں میں ہوا کسی حکومت نے نہیں کیا
۔ ڈپٹی سپیکرکی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ عدالت کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،مراسلے پر تفتیش نہیں کی گئی ،مراسلہ صدر مملکت اور عدلیہ کو بھجوایا کہ اس پر کمیشن بنایا جائے،سپیکر اور صدر پاکستان نے سائفر چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوایا ،عدالت سے پوچھتا ہوں کہ جب صدر نے مراسلہ بھجوایا تو کیا اپ کو تحقیقات نہیں کرنی چاہئے تھیں؟ میں نے پہلے کابینہ کے سامنے وہ مراسلہ رکھا،نیشنل سکیورٹی کونسل اور پارلیمنٹ میں بھی وہ مراسلہ رکھا،سفیراور وزرارت خارجہ تو میرے ماتحت تھی،یہ تو پتہ کراتے ڈونلڈ لو نے کس کوپیغام دیاتھا؟ اگر آپ اس پر انکوائری نہیں کرائیں گے تو کل کوئی بھی ان کے جھک جائے گا۔22کروڑ عوام کیلئے اس سے زیادہ توہین کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ملک کے وزیراعظم کو دھمکی دے کر ہٹوا دیا گیا اور کچھ نہیں ہوا ۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ ضمنی الیکشن میں امریکہ کے جوتے پالش کرنے والوں کو شکست دینی ہے،ہر پولنگ اسٹیشن پر نوجوانوں نے دھاندلی کو روکنا ہے، یہ اس امپورٹڈ حکومت کو شکست دینے کا وقت ہے ، یہ وقت ہے ان چوروں اور ڈاکوں کو شکست دینے کا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،جب صدر نے مراسلہ بھجوایا تو کیا تحقیقات نہیں کرنی چاہئے تھیں،عمران خان








