لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ اینٹی کرپشن کو سابق وزیر داخلہ اور سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کو غیر قانونی طور پر ہراساں کرنے سے روک دیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں آج شیخ رشید کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن لاہور میں طلبی نوٹس کے خلاف درخواست پر جسٹس فاروق حیدر نے سماعت کی۔
شیخ رشید کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں چیف سیکریٹری پنجاب، سیکریٹری ہوم، ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں شیخ رشید نے استدعا کی تھی کہ اینٹی کرپشن میں 15 جولائی کی طلبی کا نوٹس غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور حتمی فیصلے تک اینٹی کرپشن کو غیر قانونی ہراساں کرنے سے بھی روکا جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں آج انتظار حسین پنجوتھہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، سماعت کے دوران جسٹس فاروق حیدر نے شیخ رشید سے استفسار کیا کہ ‘آپ کی درخواست سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رقبہ ابھی فروخت کے معاہدے میں ہے، ابھی تو آپ کو پوری رقم نہیں ملی تو یہ فروخت شدہ رقبہ کیسے ہوا؟
شیخ رشید احمد نے جواب دیا کہ ‘ابھی تک رقبہ مکمل فروخت نہیں ہوا، ابھی 80 فیصد رقم وصول کرنا باقی ہے، ساری زمین کا قبضہ میرے پاس ہے، رائل ریذیڈینشیا والا رقم بھی نہیں دے رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلع اٹک میں 149 کنال کے رقبے کا 67 کروڑ میں رائل ریذیڈینشیا کیساتھ کا معاہدہ کیا تھا۔
سماعت کے دوران شیخ رشید نے اپنا مؤقف ظاہر کیا کہ رائل ریذیڈینشیا سے 10 کروڑ روپے ایڈوانس وصول کیے،57 کروڑ کی ادائیگی 23 فروری 2022 تک مکمل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ زمین کی فروخت کا معاہدہ کسی بھی طرح غیر قانونی نہیں تھا، انکم ٹیکس ریٹرن میں ڈکلیئر شدہ زمین کو فروخت کر کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، محکمہ اینٹی کرپشن نے غیر قانونی طور پر انکوائری شروع کی۔
بعد ازاں عدالت نے محکمہ اینٹی کرپشن کو شیخ رشید کو غیر قانونی طور پر ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے27 جولائی کو تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔
15 سے 30 اگست کے درمیان اہم فیصلے ہوں گے، شیخ رشید
دریں اثنا شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے کہنے پر مجھے آج اینٹی کرپشن نے بلایا تھا، رانا جبار اسی اجرتی قاتل کا ساتھی ہے، رانا جبار، رانا ثنا اللہ کا رشتے دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات فروش کو کہنا چاہتا ہوں کے زمین میری ہے میں نے بیچی ہے، اجرتی قاتل نے بیس گریڈ کے افسر کو 21 میں لگایا۔
انہوں نے کہا کہ عمران کا فیصلہ عمران کے حق میں ہے، آرٹیکل 6 کا نام لینے سے پہلے وضو کرنا پڑتا ہے، عمران خان کا بیانیہ چوروں اور لٹیروں کے خلاف ہے، اگر ہمت ہے تو عمران خان کو پکڑیں وہ لاہور آ رہا ہے۔
شیخ رشید نے مزید کہا کہ پیٹرول میں کم کئے گئے تھوڑے سے پیسے جوتی پر وار کر پھینک دئیے گئے، نواز شریف کی علیحدہ رائے ہے، آصف زرداری اور شہباز شریف کی علیحدہ رائے ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کیس کے ملزم کو ڈی سی اور ڈی جی اینٹی کرپشن لگایا ہے، انہوں نے ‘ووٹ کو عزت دو’ کہا لیکن لوٹے کو عزت دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘مجھے پوری اسٹیبلشمنٹ سے توقع ہے کہ الیکشن غیر جانبدار ہوں گے، پولیس کی پاکستان میں کوئی اوقات نہیں 25 تاریخ کو رینجرز نہ نکلتی تو پولیس نے ہتھیار پھینک دیے تھے، 15 سے 30 اگست کے درمیان اہم فیصلے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے 4 بجے کا وقت دیا تھا، میں پونے 4 بجے پہنچ گیا، میری سیکیورٹی انہوں نے واپس لے لی جو بورڈ نے دی تھی۔
واضح رہے کہ سرکاری فیس کی ادائیگی میں کروڑوں روپے کے مبینہ غبن کیس میں محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کو زمین کی فروخت کے ریکارڈ کے ساتھ 15 جولائی کو (آج) طلب کیا تھا۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اسلام آباد کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی فروخت کی گئی زمین کی سرکاری فیس کی ادائیگی میں خورد برد کی گئی۔
اینٹی کرپشن پنجاب کے حکام نے شیخ رشید کو زمین کی فروخت کے ریکارڈ کے ساتھ اینٹی کرپشن ہیڈ آفس لاہور میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔
بعدازاں گزشتہ روز شیخ رشید نے اینٹی کرپشن میں طلبی کا نوٹس لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں آج کی طلبی کا نوٹس غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔









