بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یونان کشتی حادثہ: ثاقب ججہ گرفتار، متاثرین سے مبینہ طور پر بیانات تبدیل کروائے گئے

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک سال سے زائد عرصے سے مطلوب ثاقب ججہ کو گرفتار کر لیا ہے، جو غیر قانونی طور پر نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کے الزام میں ملزم ہیں۔
ثاقب ججہ کا تعلق اسی گاؤں سے ہے جہاں کے کئی نوجوان اُس کشتی پر سوار تھے جو دسمبر 2024 میں یونان کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ اس ایجنٹ گروہ کے سرغنہ تھے، جنہوں نے یورپ جانے کے خواب دکھا کر سینکڑوں نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل کیا۔
حادثے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ کشتی پر سوار کم از کم پانچ پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ 47 افراد کو بچا لیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ثاقب ججہ کے خلاف متاثرین کی جانب سے 14 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم اور اس گروہ کے دیگر ارکان نے نوجوانوں سے 20 لاکھ سے لے کر 38 لاکھ روپے تک وصول کیے، اور کچھ متاثرین سے مبینہ طور پر بیانات تبدیل کروانے کی کوشش بھی کی گئی۔
پسرور کے رہائشی دلاور حسین نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اٹلی بھیجنے کے لیے ایک سب ایجنٹ سے رابطہ کیا، جو ثاقب ججہ کے زیرِ انتظام کام کرتا تھا۔ ایڈوانس رقم کے بدلے بیانات میں تبدیلی کے امکانات اور گروہ کے مالی لین دین کے طریقہ کار نے متاثرین میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا۔
دلاور حسین کے مطابق گروہ کے لیے خواتین بھی کام کرتی تھیں، جو گھروں میں کام کے بہانے نوجوانوں کے لیے غیر قانونی بیرون ملک بھیجنے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کرتی تھیں۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس گروہ کے دو دیگر ارکان کو اسی واقعے سے متعلق مقدمات میں جرمانے کی سزائیں بھی سنائی ہیں، جس سے اس نیٹ ورک کی کارروائیوں کا پھیلاؤ واضح ہوتا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ثاقب ججہ کو پاکستان واپسی پر گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے، اور مقدمے کی سماعت جاری ہے۔