امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران مستقبل قریب میں ایسے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے جو امریکا تک پہنچ سکیں۔
اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح سفارتی حل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور خطے میں استحکام قائم ہو۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا گیا۔ ان کے مطابق امریکا نے بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے ایران میں سزائے موت رکوانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا “امن بزور طاقت” کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں سے ایران کا مبینہ جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ انہوں نے سابق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ واشنگٹن یہ سننا چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا، تاہم ان کے بقول تہران کی جانب سے اس حوالے سے واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، مگر اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
ایران جلد امریکا تک مار کرنے والے میزائل بنا سکتا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ








