مشاہدے اور معمول مطابق تو طفیلی کیڑے اکثر لوگوں کے نظام ہاضمہ تک پہنچ جاتے ہیں مگر فلپائن میں تو ایک خاتون کو بہت عجیب مسئلے کا سامنا ہوا۔
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ایک تحقیقی مقالے میں بتایا گیا کہ یہ خاتون اچانک مرگی کے دوروں کا سامنا کرنے لگی تھی اور پھر ڈاکٹر سے رجوع کیا۔
خاتون کے مسئلے نے طبی ماہرین کو سر کھجانے پر مجبور کر دیا تھا کیونکہ ابتدائی ٹیسٹوں میں ثابت ہوا تھا کہ خاتون بالکل ٹھیک ہے۔
مگر جب دماغ کا ایم آر آئی اسکین کرایا گیا تو دماغ میں کچھ غیرمعمولی نظر آیا۔پہلے ڈاکٹروں کے لیے طے کرنا مشکل تھا کہ یہ رسولی ہے یا طفیلی کیڑے وہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ یہ کوئی طفیلی کیڑا ہے اور ٹیسٹ کے نتائج سے بھی یہی عندیہ ملا۔
مرگی کے دوروں کے دوران خاتون کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا تھا جبکہ دایاں بازو اور ٹانگ کانپتے رہتے تھے، مگر کوئی اور علامت جیسے درد سر، کمزوری، بے ہوشی، بینائی دھندلانے یا دیگر کا سامنا نہیں ہوا۔
ایم آر آئی اسکین میں ان کیڑوں کے انڈوں کو دیکھا گیا تھا جو مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کافی عام ہوتے ہیں۔یہ کیڑے رگوں اور اعضا میں سفر کرتے رہتے ہیں اور مسائل کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے جبکہ انڈے اعضا میں جمع ہونے لگتے ہیں۔
مگر عام طور پر یہ کیڑے دماغ میں نہیں پہنچتے جبکہ ڈاکٹروں کے لیے کھوپڑی کھول کر جائزہ لینا بھی ممکن نہیں تھا۔تو ڈاکٹروں نے خاتون کے فضلے کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور اس میں درجنوں انڈوں کو دریافت کیا۔
مزید پڑھیں:دشمن کیلئے ’سرپرائز‘ تیار، نئی ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا، ایرانی وارننگ
خوش قسمتی سے اس مسئلے کا علاج آسان ہوتا ہے۔ڈاکٹروں نے خاتون کو مختلف ادویات دے کر گھر بھیجا اور 3 ماہ بعد خاتون کے دورے رک گئے۔بعد ازاں ایم آر آئی اسکین سے بھی ثابت ہوا کہ اب خاتون کا دماغ کیڑوں سے پاک ہوچکا ہے۔









