بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب: ٹیرف پالیسی، عالمی اور ملکی مسائل پر مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ سمیت کئی ممکنہ جنگوں کو روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک اب بھی امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، اور پاکستانی وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ اس پالیسی سے 35 ملین لوگوں کی جانیں بچائی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ تہران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جلد ہی امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں، اور وہ ایران سے ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں حکومت نے 32 ہزار مظاہرین کو قتل کیا اور امریکہ نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں روک کر امن قائم رکھنے کی کوشش کی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر گزشتہ سال کیے گئے امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر نقصان پہنچا، اور انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو بھی ہلاک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران نے ابھی تک یہ یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
ملکی سرحدوں اور مہاجرین کے مسائل پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی بھی غیر قانونی تارک وطن امریکہ میں داخل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تاریخ میں موجودہ سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے۔
معیشت کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور پچھلے بارہ ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔ ان کے بقول، امریکہ آج پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہے اور صرف ایک سال میں بڑی تبدیلیاں ممکن بنائی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک تباہی کے قریب تھا جبکہ اب امریکہ دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔ انہوں نے ٹیکس میں کمی کے لیے کانگریس سے اقدامات کیے، جسے ریپبلکنز نے منظور کیا جبکہ ڈیموکریٹس نے مخالفت کی۔
خطاب کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین اور الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے، اور خطاب میں ملکی و عالمی مسائل پر ان کا موقف واضح طور پر سامنے آیا۔