سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے واخان کی پٹی کے حوالے سے بھی تجویز پیش کی کہ وہاں کے عوام کے لیے امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر سوچا جائے۔
محمد علی درانی نے افغانستان کی جانب سے پاکستان پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ضروری اور عالمی قوانین کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کے مترادف ہیں اور اس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرنا Doha Agreement کی روح کے بھی خلاف ہے، لہٰذا اس معاہدے کے ضامن ممالک کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کر چکی ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
محمد علی درانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑا گیا اسلحہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کے بارے میں عالمی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ یہ ہتھیار کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہوں۔
انہوں نے پاکستان کے دفاع میں کی گئی جوابی کارروائیوں پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے ہمیشہ پیشہ ورانہ انداز میں ملکی سلامتی کا دفاع کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ افغان حکومت کے ممکنہ روابط پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر محمد علی درانی نے تجویز دی کہ ملک میں وسیع تر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ ان کے مطابق نیشنل یونٹی گورنمنٹ یا وار کیبنٹ جیسے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے تاکہ تمام سیاسی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی ایجنڈے پر متحد ہوں۔
ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر واضح مؤقف اور قومی اتحاد کی ضرورت — محمد علی درانی








