ہائی کورٹ نے گھریلو تشدد ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں کے اندر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا ہے۔
عدالت عالیہ نے گھریلو تشدد ترمیمی ایکٹ پر عمل درآمد روکنے کی متفرق درخواست پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ مدت میں جواب پیش کریں۔
تحریری حکم نامہ جسٹس ارباب محمد طاہر کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں درخواست گزار کا مؤقف شامل ہے کہ یہ قانون اسلامی احکامات اور آئینِ پاکستان کے منافی ہے۔
درخواست عبدالوہاب فرید ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس کی پیروی وکلاء ماہم فاطمہ اور سردار طارق حسین کر رہے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متنازعہ قانون آئین کے آرٹیکل 4، 8 اور 10A کے علاوہ آرٹیکل 35 اور 227 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اسلامی احکامات کے بھی منافی ہے۔ مزید کہا گیا کہ نئے قانون کے تحت شکایات کے اندراج اور ازالے کا طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 10A میں درج منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ 2026 کے اس متنازعہ ایکٹ کا عدالتی جائزہ لے کر اس کی تشریح آئینِ پاکستان میں درج بنیادی حقوق کے مطابق کرنے کا حکم دے۔
ہائی کورٹ نے گھریلو تشدد ترمیمی ایکٹ پر وفاق کو نوٹس جاری کر دیا، دو ہفتوں میں جواب طلب








