لاہور کے علاقے شادمان میں 30 سالہ بختاور کے قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس پر صوبائی حکومت نے فوری نوٹس لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مقتولہ کے گھر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مقتولہ کے والد اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی، تعزیت اور دعائے مغفرت کی، اور انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
حنا پرویز بٹ کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کر لی گئی ہے اور تمام شواہد فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں۔
چیئرپرسن نے بتایا کہ ملزم نے شیشے کے گلاس کا ٹکڑا تین بار بیوی کے گلے پر مار کر اسے قتل کیا۔ ملزم آئس کے نشے کا عادی تھا اور گاڑی کی فروخت کے معاملے پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ مقتولہ گاڑی فروخت نہیں کرنا چاہتی تھی، جبکہ شوہر اس پر بضد تھا۔
حنا پرویز بٹ نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سے کیس کی تفصیلی اور اپڈیٹڈ رپورٹ طلب کر لی ہے اور کہا کہ وہ خود اس کیس کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ ہر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
چیئرپرسن نے کہا کہ بیٹیوں پر ظلم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب ہمارا عزم ہے۔
متاثرہ خاندان نے بتایا کہ مقتولہ کو طویل عرصے سے مالی دباؤ اور گھریلو جھگڑوں کا سامنا تھا۔ شادی کو 12 سال ہو چکے تھے اور وہ تین بچوں کی ماں تھیں۔
لاہور میں 30 سالہ خاتون کا قتل، صوبائی حکومت نے فوری نوٹس لے لیا








