یورپی یونین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری طور پر حالات کو معمول پر لانے اور مذاکرات کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں حالیہ دنوں تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد تمام فریقین کو چاہیے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں اور دشمنی کا سلسلہ روکیں۔ انہوں نے بالخصوص گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرحد پار حملوں اور ان کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کایا کالس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دھمکی یا حملے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے اندر یا افغانستان سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور ٹھوس کارروائی کریں۔
انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور بین الاقوامی قانون، خصوصاً انسانی حقوق کے قوانین کا مکمل احترام یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق شہریوں اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔
یورپی یونین کا پاکستان اور افغانستان سے فوری مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ








